Posts

طلبا کے نام اساتذہ کے جذبات

 طلبا کے نام اساتذہ کے جذبات یہ جگنو پھر سے آئیں  شرارت مسکرائے گی ہنسی پھر لب پہ آئے گی محبت بانہیں کھولے گی   پرندے لوٹ آئیں گے وہی قلقاریاں ہوں گی وہی گل کاریاں ہوں گی وہی ہاتھوں میں بچوں کے کتابیں،کاپیاں ہوں گی پرانی تختیاں ہوں گی قلم کی روشنائی سے  الف بے جیم لکھیں گے ذرا سجنے دو گلشن کو پرندے لوٹ آئیں گے تمہیں لکھنا سکھانا ہے تمہیں پڑھنا سکھانا ہے ریاضی کے اصول و ضوابط  اردو کے سارے قواعد قرآن پاک کی آیات اور پھر ان کے فوائد اصول کیمیا،ترکیب نحوی،صرف،قواعد ذرا سجنے دو گلشن کو ذرا گلزار ہونے دو پریشاں تم نہیں ہونا،پریشاں ہم کو ہونے دو ہمیں آتا ہے کیسے، کس کو ،کب تعلیم دینی ہے تمہارا قرض ہے ہم پر اسے ہم ہی اتاریں گے  ذرا سجنے دو گلشن کو پرندے لوٹ آئیں گے  انشا اللہ!

THE TEXTBOOK OF BIOLOGY For Class IX

 

THE TEXTBOOK OF COMPUTER SCIENCE For Grade 9 (Class IX)

 
 اردو زبان شمعِ محفل ہے کہ جو مختلف زبانوں کے ملاپ سے صدیوں قبل تشکیل پائی۔ اس کی لچک داری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ادب سے ملحقہ افراد نے مزاج و جذبات و خیالات کی ترجمانی کے لیئے اردو زبان کا سہارا لیا۔ سمندر کی طرح وسعت ہو جس میں  وہ قطرۂ بحر ہے قطرہ تو نہیں نہ صرف اردو زبان کے وسعت و حسن کے باعث اردو زبان کا نفاذ اہمیت رکھتا ہے بلکہ بحیثیت پاکستانی اردو زبان کو اپنی شناخت اور باعثِ فخر سمجھنا بھی حب الوطنی اور قوم کی مظبوطی کا اظہار کرتا ہے کیونکہ محب وطن شہری ہی قوم کی مظبوط بنیاد کی نشاندہی کرتے ہیں۔  -نشانی الفت و ملت کی ہے بے شک زباں اردو (نثار کبریٰ) اردو زبان کی اصل رجعت پسندانہ نہیں بلکہ ملنسار پسند ہے۔ انگریزی میں کہیں تو اردو زبان conservative نہیں بلکہ anti fundamentalist   اور anti regressive زبان ہے کہ جس کو محدود کرنا، اس کو قتل کرنے کی مانند ہے۔ زبان لغت کا نہیں بلکہ نحو کا نام ہے اسی لیئے ہر زبان کی لغت میں نئے الفاظ کا اضافہ ہوتا رہتا ہے  اور آج اردو زبان کی زبوں حالی کی بڑی وجہ اس زبان کی لغت پر لگائی جانے والی غیر ضروری حدود و قیود ہیں۔ جس پر صفی لکھن

نفاذِ اردو ہی کیوں؟

  نفاذِ اردو ہی کیوں؟  ✒️   گردش وقت و حالات نے پاکستان کے اربابِ علم کے سامنے ایک سوال لا کھڑا کیا ہے کہ برائے سرکار و تعلیم زبان اردو ہی کیوں؟      کسی اور صوبے کی زبان یا انگریزی کیوں نہیں؟ اس سلسلے میں ہمیں یہ چند حقائق پیش نظر رکھنے چاہییں:  🔹 اولاً : پاکستان کے تمام صوبوں میں اکثریت اردو بول سکتی ہے اور جو بولنے کی حد تک عبور نہیں رکھتے وہ بہت حد تک اسے سمجھ سکتے ہیں۔ ملک کے مختلف صوبوں میں جانے والوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ صوبائی زبان نہ سہی مگر اردو سمجھنے سمجھانے میں انہیں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ یوں بھی ہماری یہ لشکری زبان کئ زبانوں کے الفاظ کا ذخیرہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور اسی لیے عوام پاکستان کے مابین رابطے کا ذریعہ بھی ہے۔ جبکہ اس برعکس ایک صوبے کی زبان دوسرے صوبے کے رہنے والوں کیلئے، اور بسا اوقات دیہی زبانیں شہریوں کیلئے سمجھنا دشوار ہے۔ 🔹 ثانیاً: عوام الناس کے اذہان میں یہ خیال راسخ ہو چکا ہے کہ جو جتنی رواں انگریزی بول سکتا ہے وہ اتنا ہی ترقی یافتہ، سلجھا اور پڑھا لکھا ہے۔ حالانکہ فی الاصل ترقی کا معیار انگریزی نہیں۔ ذرا کسی فرنگی ملک میں تو چلے جائیے، کیا